برسلز،9؍مارچ(ایس او نیوز؍ایجنسی)یوروپی یونین(ای یو)روسی گیس، تیل اور کوئلے پر اپنا انحصار کم کرنا چاہتا ہے اور اس کے لیے نئے طریقوں پر غور و خوض ہو رہا ہے- یوروپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیئن نے یہ بات کہی- نیوز ایجنسی سنہوا نے وان ڈیر لیئن کے حوالے سے کہا کہ اس کے لیے یوروپی یونین اپنی گرین ڈیل میں تیزی لائے گا اور ساتھ ہی یوروپی یونین کی معیشت کو ٹکاؤ بنانے کے لئے ایک روڈ میپ تیار کیا جائے گا-وان ڈیر لیئن کا کہنا ہے کہ یوروپی یونین اپنی توانائی صلاحیت میں سدھار پر کام کرے گا- کووِڈ19 وبا اور روس-یوکرین جدوجہد کے درمیان قیمتوں میں اضافہ سے صارفین کی سکیورٹی کی شکل میں وان ڈیر لیئن نے کہا کہ طویل مدت میں یوروپی یونین کو اپنے توانائی مارکیٹ ڈھانچہ پر بھی غور کرنا ہوگا- لیئن نے مزید کہا کہ خصوصی طور سے تجدید توانائی سے متعلق مستقبل میں ایک بڑے حصے کی نمائندگی کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا-
روس کی جنگ بندی:روسی مسلح افواج نے دارالحکومت کیف سمیت یوکرین کے کئی شہروں سے شہریوں کو محفوظ طریقے سے نکالنے کے لیے مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے سے جنگ بندی کا اعلان کیا ہے -روسی وزارت دفاع نے منگل کو یہ اطلاع دی- وزارت کے ترجمان ایگور کوناشینکوف نے صحافیوں کو بتایاکہ جنگ بندی آج ماسکو کے وقت کے مطابق صبح 10 بجے شروع ہوئی اور انسانی ہمدردی کی راہداریوں کو کیف، چرنیہیو، سومی، خارکیف اور ماریوپول میں کھول دیا گیا-اس سے کچھ دیر پہلے یوکرین کی نائب وزیر اعظم ارینا ویریشچک نے کہا تھا کہ انسانی ہمدردی کی راہداری منگل کو سومی میں کھل جائے گی-انہوں نے بتایاکہ آج ہی سومی شہر کے لیے ایک انسانی راہداری شروع کی جانی چاہیے -اس پر روسی وزارت دفاع کے ساتھ آئی سی آر سی کو ایک خط میں باضابطہ طور پر اتفاق کیا گیا تھا-
20ہزار ہندوستانی وطن واپس:آپریشن گنگا کے تحت بھارت اب تک جنگ زدہ یوکرین سے اپنے 20 ہزار سے زائد شہریوں کی بحفاظت واپسی میں کامیاب رہا ہے- ہندوستانی حکومت نے کہا کہ شمال مشرقی شہر سومی میں تقریبا 700 ہندوستانی طلبہ پھنسے ہوئے ہیں جن کے انخلا کا انحصار روسی اور یوکرائنی حکام کی جانب سے محفوظ راستے کی سہولت پر ہے- پچھلے کچھ دنوں سے ہندوستان بنیادی طور پر ہندوستانی طلبا کو سومی سے نکالنے کے طریقوں پر توجہ مرکوز کر رہا ہے، جو روسی سرحد سے تقریباً 60 کلومیٹر دور ہے-ہندوستانی طلبا کے انخلا کا امکان پیر کو اس وقت بڑھ گیا جب روس نے کہا کہ وہ جنگ بندی کرے گا اور یوکرین کے بڑے شہروں بشمول کیف، خارکیو اور سومی میں انسانی بنیادوں پر راہداری کھولے گا-سومی میں روسی جنگ بندی کے بعد منگل کے روز ہندوستان کے 694 طلبا کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا -اوربعد میں ان کی وطن واپسی کے انتظامات کئے گئے-
میں چھپتاہوں اور نہ ڈرتاہوں: زیلنسکی: یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے کہا ہے کہ وہ کسی سے نہیں ڈرتے اور نہ ہی کہیں چھپتے ہیں بلکہ ابھی بھی دارالحکومت واقع اپنے دفتر میں مقیم ہیں -’میں یہاں رہتا ہوں‘- مسٹر زیلنسکی نے پیر کو اپنے سرکاری ٹیلی گرام چینل پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں کہا- میں کیف میں رہتا ہوں، بینکوا اسٹریٹ پر- میں چھپا نہیں رہتا ہوں اور میں کسی سے نہیں ڈرتا-مسٹر زیلینسکی کو 24 فروری کو یوکرین-روس تنازع کے آغاز کے بعد پہلی بار کیف واقع اپنے دفتر میں دیکھا گیا-سی این این نے رپورٹ کیا کہ روسی جارحیت شروع ہونے کے فوراً بعد ان کی حکومت کے ارکان کے ساتھ ایک مختصر بیرونی موجودگی کے علاوہ یہ پہلا موقع ہے جب وہ اپنے بنکر کے باہر دیکھا گیا ہے -یوکرین کے صدر نے کہا کہ وہ سب زمین پر ہیں اور کام کر رہے ہیں - انہوں نے کہا”آج ہماری جدوجہد کا 12واں دن ہے - یہ ہماری جدوجہد کی 12ویں شام ہے - ہم سب زمین پر ہیں، ہم سب کام کر رہے ہیں - ہر کوئی وہیں ہے جہاں انہیں ہونا چاہئے - میں کیف میں ہوں - میری ٹیم میرے ساتھ ہے - علاقائی دفاع زمین پر ہے - نوکر عہدوں پر ہیں - ہمارے ہیرو! ڈاکٹرز، ریسکیو ٹیمیں، ٹرانسپورٹرز، سفارت کار، صحافی…… ہر کوئی“-صدر نے کہا:ہم سب جنگ میں ہیں - ہم سب اپنی جیت میں اپنا حصہ ڈالیں، جو یقینی طور پر حاصل ہوگی اسلحے اور ہماری فوج کے زور سے، الفاظ کی طاقت اور ہماری سفارت کاری سے، روح کی طاقت سے -مسٹر زیلینسکی نے کہا کہ حملہ آوروں کے خلاف مظاہرہ کرنے والے یوکرینی ہیرو تھے -
انہوں نے کہا:ہمارے ملک کے جنوب میں یوکرینیوں کی ایسی قومی تحریک ابھری ہے جو ہم نے وہاں کی گلیوں اور چوکوں میں کبھی نہیں دیکھا- یہ روس کے لیے ایک ڈراؤنے خواب کی طرح ہے -مسٹر زیلینسکی نے کہاکہ وہ بھول گئے کہ ہم ٹینکوں اور مشین گنوں سے نہیں ڈرتے - جب سچ جیسی اہم چیز ہماری طرف ہو- ہم سب کچھ دوبارہ بنائیں گے - ہم حملہ آوروں کے ہاتھوں تباہ ہونے والے اپنے شہروں کو روس کے کسی بھی شہر سے بہتر بنائیں گے -مسٹر زیلنسکی نے پیر کے روز یوکرین کے 96 فوجیوں کو یوکرین کا ریاستی انعام دینے کے حکم نامے پر بھی دستخط کیے-